![]() |
| مسجد نبویﷺ اور ملحقات کا تعارف |
یہ جو قبلے کی مخالف سمت یعنی چھتریوں کے اوپر پیلے تیر کا نشان ہے اس کے سیدھ میں بابِ فہد ہے یعنی باب نمبر 21۔ بابِ فہد سے نکلتے ہی سامنے دیکھیں تو جبلِ احد کا خوبصورت منظر نظر آتا ہے۔
یہ جو لال تیر کا نشان ہے یہ بابُ النساء ہے کہ عہدِ صحابہ میں یہ دروازہ خواتین کے داخل ہونے کے لیے خاص کیا گیا تھا، اس کے قریب جو کالے تیر کا نشان ہے یہ بابِ جبریل علیہ السلام ہے، ان دونوں دروازوں سے ریاض الجنۃ میں حاضری دینے والے داخل ہوتے ہیں۔ اس کے قریب جو سفید تیر کا نشان ہے یہ بابُ البقیع ہے کہ اس کی دوسری طرف بابُ السلام ہے جہاں نیلے تیر کا نشان لگا ہے، اس سے روضہ اقدس پر سلام عرض کرنے والے داخل ہوتے ہیں اور بابُ البقیع سے باہر نکل جاتے ہیں، اور یہ جو سفید تیر کے مخالف سمت سبز تیر کا نشان ہے اس طرف مسجد نبوی کے متصل ہی جنۃ البقیع قبرستان ہے۔
![]() |
| مسجد نبوی کا مختصر تعارف |
کل ظہر کی نماز مسجد نبوی کے اُس احاطے میں ادا کرنے کی سعادت نصیب ہوئی جو کہ حضور اقدس ﷺ کے زمانے میں اصل مسجد نبوی کی حدود تھیں۔ یہ جو نیلے تیر کا نشان لگا ہے یہاں تین دروازے ہیں جو کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے نام پر ہیں یعنی باب أبی بکر، یہاں سے داخل ہوتے ہی ایک احاطہ بنا ہوا ہے جس کے اوپر چھوٹے چھوٹے گنبد ہیں، تو اوپر پانچویں گنبد کے بعد جو پلر ہیں اس پوری پٹی پر اوپر لکھا ہے کہ "حد مسجد النبی علیہ السلام"، یہاں سے اصل قدیم مسجد نبوی کی حدود ہیں، (سہولت کے لیے سرخ تیر کا نشان لگا دیا ہے۔) پھر نویں گنبد کے بعد سے ریاض الجنۃ شروع ہوتا ہے جو کہ حضور اقدس ﷺ کی قبر مبارک یعنی حجرہ مبارکہ تک ہے۔ اسی نویں گنبد کے بعد قبلہ کی جانب منبر مبارک ہے۔ اور یہ جو نیلے تیر کا نشان لگا ہے یہ بابُ الرحمۃ ہے۔
بندہ مبین الرحمٰن
مدینہ منورہ
22 فروری 2023 بروزِ بدھ


0 تبصرے