Ticker

6/recent/ticker-posts

مرد اور عورت کے فطری فرق


مرد اور عورت کے فطری اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ مرد کی یہ عادت ہوتی ہے کہ جو بچہ اُس سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو ،یا عادتیں اس جیسی پائی جاتی ہوں گی دوسرے بچوں کے مقابلے میں، اُس سے زیادہ محبت کر تا ہے۔

لیکن ماں سب سےبرابر محبت کرتی ہے ماں کو برا لگے گا،اورکہے گی کہ آپ انصاف نہیں کرتے ، سارے بچے ہمارے ہی بچے ہیں ، لیکن مرد فطرتا ایسا ہوتا ہے۔

ایک اور فرق کو بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ مرد ہمیشہ مستقبل کی سوچ میں رہتا ہے.

جبکہ خواتین اپنے ماضی کے سہانے خیالوں میں مگن نظر آتی ہیں،

 مرد کا مستقبل کے بارے میں سوچنا فطری ہے کیونکہ اس کو خاندان کے مستقبل کو سنوارنا ہے.

 جبکہ خواتین کا ماضی اکثر و بیشتر ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے تو وہ ان کے لیے کشش کا باعث ہوتا ہے جبکہ حال ذمہ داریوں سے بھرپور ہوتا ہے، خستگی کا باعث بنتا ہے تو وہ اپنی اس تھکاوٹ کا مداوا ماضی کے پر امن حسین لمحات کی یاد سے کرتی ہیں۔

بعض اوقات یہ فرق بھی خاندانی مسائل میں مشکلات کا باعث بنتا ہے لیکن اگر دونوں اس فطری فرق سے آگاہ ہوں گے تو خوبصورت حل تک پہنچ سکتے ہیں۔

 اِسی لیے جب بیوی اُس سے کہتی ہے کہ میں آپ سے بات کر رہی ہوں آپ کدھر ہیں؟

تو کہے گا: ہاں ہاں میں یہی ہوں۔ لیکن وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہوتا ہے۔ وہ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہا ہوتا ہے۔

 حالانکہ اُسے چاہیے کہ جب گھر آگیا ہے تو زمانہ حال میں آجائے۔

اور خواتین کہ جو اپنے ماضی کے واقعات کو یاد کر رہی ہوتی ہیں، اُن کو بھی چاہیے کہ، آپ بھی واپس حال میں آجائیں

اور دونوں گھر میں زمانہ حال میں رہیں ۔ نہ کہ ایک ماضی میں چلا جائے، اور دوسرا مستقبل میں ،اور گھر میں ذہنی طور پر کوئی بھی نہ ہو ۔کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ آپ زمانہ حال میں رہیں اوراسی کو مضبوط کریں۔

ایک اور فرق جو عموماً مشاہدہ میں آتا ہے وہ یہ کہ مرد پریشانی کے وقت خاموشی کو پسند کرتا ہے اور تنہائی چاہتا ہے

 جبکہ خواتین فوراً پریشانی کو بیان کرنا چاہتی ہیں اور کچھ بول کر پریشانی کو رفع کرنے کی سعی کر رہی ہوتی ہیں جبکہ مرد کسی کے سامنے اپنی پریشانی کو بیان کرنے کے بجائے اپنی تمام تر توجہ اور توانائی مرکوز کرکے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

 اس فطری فرق کی وجہ سے بھی اختلافات جنم لے سکتے ہیں لیکن اگر دونوں آگاہ ہوں گے تو اختلافات اور مشکلات کی بجائے محبت و عشق کی راہوں کو ہموار کرسکتے ہیں،

مثلاً خاتون یہ سوچتی ہے کہ چونکہ میری پریشانی بیان کرنے سے رفع ہوجاتی ہے اور کم از کم ہلکی تو ہوجاتی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنے شوہر سے اس کی پریشانی دریافت کروں تاکہ اس کے دِل کا بوجھ ہلکا ہوجائے جبکہ مرد کی فطرت کے خلاف عمل ہو رہا ہوتا ہے۔

جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مرد کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے اور بعض اوقات ماحول میں تلخی بھی پیدا ہوجاتی ہے لیکن اگر دونوں اس قدرتی فرق اور اختلاف سے آشنا ہوں گے تو تلخیاں بھی شیرینی میں تبدیل ہوسکتی ہیں


بشکریہ: محترمہ اسماء ارشادی تھانوی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے