جامع مسجد جامعہ دارالعلوم کراچی میں ختم قرآن کریم کے مبارک موقع پر حضرت شیخ الاسلام صاحب دامت برکاتہم کا اہم بیان
---------
آج مورخہ 25 رمضان المبارک 1443ھ کو جامعہ دارالعلوم کراچی کی جامع مسجد میں تراویح میں قرآنِ کریم مکمل ہوا۔ تراویح پڑھانے کی سعادت شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کے فرزند جناب ڈاکٹر حسان اشرف عثمانی صاحب مدظلہ نے حاصل کی، نماز کےبعد شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی نے مختصر مگر قیمتی بیان فرمایا اور بعد ازاں دعا فرمائی۔اس موقع پر مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب مدظلہم العالی بھی اپنے علالت و ضعف کے باجود تشریف لائے اور ختم قرآنِ کریم کی اس بابرکت محفل میں شرکت فرمائی۔
(ذیل میں حضرت والا کے بیان کا خلاصہ لکھا جاتا ہے،---ناقل:ابومعاذ راشد حسین)
اللہ تعالیٰ کا کس زبان سے شکر ادا کیا جائے کہ اس نے اپنے فضل و کرم سے ہمیں رمضان عطا فرمایا اور رمضان میں روزوں کی اور تراویح کی توفیق بخشی اور تراویح میں قرآنِ کریم پڑھنے اور سننے کا انعام عطا فرمایا۔اور آج الحمدللہ تراویح میں قرآنِ کریم کی تکمیل ہوئی۔
قرآن کریم ختم کرنے کی چیز نہیں ہے ، قرآنِ کریم ایسی چیز ہے جس پر زندگیاں ختم کی جائیں
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے پوری انسانیت کی ہدایت کیلئےیہ ایک نسخۂ شفا عطا فرمایا ہے۔ اس سے پہلے کی کتابوں میں سے کوئی اپنی اصل شکل میں محفوظ نہیں رہی لیکن اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا ذمہ خود لیا ہے۔انا نحن نزلنا الذکر....الخ
اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی حفاظت چھوٹے چھوٹے بچوں کے ذریعے کروائی،....دنیا کی کسی کتاب کے مثال پیش نہیں کی جا سکتی کہ جسے اتنئ بڑی تعداد میں بچوں نے، بڑوں نے، جوانوں نے، بوڑھوں نے اس طرح سینے میں محفوظ کیا ہوا ہو کہ ایک ایک لفظ اور اس کے ادا کرنے کا ایک ایک انداز محفوظ ہو،چنانچہ آج کبھی کسی مسجد میں یہ صورتحال نہیں پیش آتی کہ وہاں تراویح پڑھانے کیلئے حافظ موجود نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی تعداد پیدا فرمادی کہ مسجدیں کم پڑگئیں۔یہ سب ان مدارس کی برکت ہے جو قدم قدم پر قائم ہیں اور جنہیں مٹانے کی فکر ہورہی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ذریعے یہ نعمت اس امت کو عطا فرمائی ہوئی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں حافظ مہیا ہیں اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ اسی طرح باقی رہے گا
اس کے ساتھ ساتھ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ عظیم نعمت قرآنِ کریم کی شکل میں ہمیں عطا فرمائی تو کیا یہ اسلیے ہے کہ اسے جز دان میں لپیٹ کر طاقوں کی زینت بنا دیا جائے اور کبھی اسے کھول کر دیکھنے کی، اسے سمجھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی نوبت نہ آئے؟ اب ختمِ قرآن کی محفلیں تو جگہ جگہ منعقد ہورہی ہیں، لیکن جب رمضان گزرے گا تو ا سکے بعد پھر قرآنِ کریم الماریوں میں رکھ دیا جائے گا اور لوگ محض تبرک کے طور پر رکھیں گے یا کبھی حلف اٹھانے کیلئے اور کبھی دلہن کو رخصت کرنے کیلئے استعمال کریں گے۔تو کیا قرآنِ کریم اس مقصد کیلئے آیا تھا؟
آج ختمِ قرآن کے اس موقع پر ہمیں اپنے دلوں میں اردے مضبوط کرنے چاہئیں کہ قرآنِ کریم کے جو حقوق ہیں، وہ ہم ان شاء اللہ ادا کریں گے۔ لمبی چوڑی بات کا وقت بھی نہیں ہے اور یہ رات اس کام کیلئے بھی نہیں ہے۔اس لیے تین مختصر باتیں عرض کرتا ہوں،اگر کوئی ان پر عمل کر لے تو ان شاء اللہ قرآن کریم کا کسی درجے میں حق ادا ہو جائے گا، ورنہ حشر میں ایک وقت ایسا آنے والا ہے جب ہم سب کی پیشی اللہ جل جلالہ کے سامنے ہوگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، جن کی شفاعت ہمارا آخری سہارا ہے، قیامت کے دن شکوہ کریں گے کہ(ان قومی اتخذوا ھذا القرآن مھجورا) اے میرے پروردگار میری اس قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تھا،پسِ پشت ڈال دیا تھا،۔ایک مسلمان کیلئے سب سے بڑی امید یہی ہے کہ شفیع المذنبین ﷺ ہماری شفاعت فرمائیں گے،اگر شفاعت کے بجائے اللہ تعالیٰ کے سامنے گلہ اور شکایت فرمائی کہ یا اللہ میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ دیا تو بتاو میرا آپ کا کیا ٹھکانہ ہوگا؟قرآنِ کریم کے تین حقوق ہیں، اس موقع پر جب قرآنِ کریم کی تکمیل ہوئی ہے تو ان تین حقوق کی ادائیگی کا پکا ارادہ کرلیں، -----
(1️⃣)
قرآن کریم کا پہلا حق: تلاوت
تلاوت قرآن بذاتِ خود مقصود ہے اور بذاتِ خود نیکی ہے، رسولِ کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ آدمی جب قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے تو اسے ہر حرف پر دس نیکیاں ملیں گی،اس طرح الم پر تیس نیکیاں ملیں گی۔۔۔مگر آج ہمیں اس بات کی فکر نہیں ہے کہ نیکیاں کس طرح بڑھائی جائیں یا نیکیان ملنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ اگر یہ کہا جائے کہ ہر حرف پر دس ڈالر ملیں گے تو اس کی طرف رغبت بھی ہوجائے گی، لیکن آپ ﷺ فرمارہے ہیں کہ ا سوقت جب انسان کی ساری جمع پونجی روپیہ پیسہ نہیں بلکہ نیکیاں ہونگی، آخرت کی کرنسی یہی نیکیاں ہونگی، جو جتنی نیکیاں لے کر آئے گا وہ اتنا ہی جنت کا حقدار ہوگا، جب اعمال تولے جائیں گے تو اس وقت اگر ایک نیکی بھی کم ہوگئی تو تب پتہ لگے گا کہ نیکی کی کیا قدرو قیمت ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص کی ایک نیکی کم ہو جائے گی اور وہ لوگوں سے مانگتا پھرے گا کہ مجھے کوئی ایک نیکی دے دو۔اس لیے مانگتا پھرے گا کہ جب اعمال میں نیکیاں تولی جائیں گی تو جتنی نیکیاں درکار تھیں اس میں سے ایک نیکی کم ہوگئی،اس لیے مانگتا پھرے گا۔
قرآنِ کریم کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا تو مقصود ہے ہی، لیکن یہ وہ نسخہ شفا ہے کہ اس کا پڑھنا بھی انسان کیلئے نجات کا ذریعہ ہے۔ پہلے زمانے میں مسلمان معاشرے کا یہ امتیاز تھا کہ صبح کو بیدار ہونے کے بعد جب تک قرآن کی تلاوت نہ کرلیں اس وقت کسی اور کام میں نہیں لگتے تھے،قرآنِ کریم کی سات منزلیں اسی لیے قائم کی گئیں کہ ایک ہفتے میں قرآنِ کریم مکمل ہو جائے۔ یہ مسلمان معاشرے کی خصوصیت تھی کہ وہاں صبح کو گھر گھر سے تلاوت کی آوازیں آتی تھیں، لیکن اب افسوس ہے کہ صورتحال بدل گئی ہے اور مسلمان گھرانوں سے تلاوت کے بجائے گانے کی آوازیں آںے لگیں،لہذا بھائیو، آج یہ عزم کرکے اٹھیں کہ ہمارا کوئی دن تلاوت سے خالی نہ جائے۔ چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، پورا پارہ نہ سہی، آدھا پارہ، میں کہتا ہوں، پاؤ پارہ، پاؤ پارہ نہ سہی تو ایک رکوع، لیکن کوئی دن قرآنِ کریم کی تلاوت سے خالی نہ جائے، یہ عزم کریں۔
(2️⃣)
قرآنِ کریم کا دوسرا حق:سمجھ کے پڑھنا
تلاوت کا اصل فائدہ تو تب ہے، جب آدمی اس کے معنی بھی سمجھے، تلاوت بے شک اپنی جگہ خود مقصود ہے، لیکن اصل بات یہ ہے کہ آدمی سوچے تو سہی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے قرآن کی شکل میں کیا پیغام بھیجا ہے، آج ہم نے اسے اٹھا کے الماری میں رکھ دیا اور معلوم نہیں کہ یہ کیا پیغام ہے۔ کوئی تمہارا دوست یا محبوب تمہیں خط لکھے تو کیا اسے طاق میں رکھ کر بھول جاؤ گے؟اگر واقعی اس سے محبت ہے تو اس وقت تک چین نہیں آئے گا جب تک کھول کر پڑھ نہ لیں کہ اس میں کیا لکھا ہے،لیکن قرآن اتنا بڑا پیغام اللہ نے بھیجا ہوا ہے اور وہ طاق کی زینت بنا ہوا ہے اور کبھی اس بات کی توفیق نہیں ہوتی کہ سمجھ کے دیکھیں تو سہی کہ ہے کیا چیز؟،لہذا ہر مسلمان کے ذمے دوسرا حق یہ ہے کہ وہ اس قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے، روزانہ تھوڑا سا وقت اس کام کیلئے نکالے، کوئی دن خالی نہ ہو کہ اس میں بیٹھ کر قرآنِ کریم کا مطلب سمجھے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علما نے ہر قسم کی تفسیریں چھوٹی بڑی لکھ دی ہیں، کسی مستند تفسیر کے ذریعے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔
(3️⃣)
قرآنِ کریم کا تیسرا حق:اس کی تعلیمات پر خود عمل کرنا اور اس کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانا۔۔۔
حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ میں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر غور کیا تو دو سبب سب سے بڑے نظر آئے، ایک قرآن کو چھوڑ دینا اور دوسرے باہمی اتحاد ختم کرکے فرقہ بندی میں مبتلا ہوجانا اور آپس میں فرقہ وارانہ پھوٹ ڈالنا، لہذا فرمایا کہ اب میں اپنی زندگی انہی دو کاموں یعنی مکاتبِ قرآنیہ قئم کرنے اور مسلمانوں کے مابین اتحاد قائم کرنے کیلئے خرچ کروں گا۔
آج جب تکمیل قرآن کا موقع ہے تو ہم سب اس بات کا عزم کریں کہ تینوں کام کریں گے، تلاوت، فہم، اور اس کی تعیمات پر عمل کرنا۔اللہ تعالیٰ اس موقع کو ہمارے حق میں مبارک فرمائے
---------------
█▓█ معارف عثمانی █▓█
27اپریل 2022

0 تبصرے