Ticker

6/recent/ticker-posts

مرض الموت، موت، غسل، کفن، دفن، ایصال ثواب کے احکام کا بیان


 
انسان کے مرض الموت، موت، غسل، کفن، دفن، ایصال ثواب کے احکام کا بیان

جب کسی انسان پر مرض الموت کی کیفیات محسوس ہونے لگے تو اسے اس طرح لٹا دے کہ سر حی علی الصلوة کی طرف اور پیر حی علی الفلاح کی طرف ہو اور چہرے گو تھوڑا سا قبلے کی جانب گھما دے، یا، اس کے پیر قبلے کی طرف کر کے اس کے سر کو تھوڑا اونچا کر دے. لیکن اگر حرکت کرنے سے مریض کو تکلیف ہو تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دے. 

جسے خود پر سکرات محسوس ہو وہ یہ دعا مانگے

«اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وارْحَمْنِي، وأَلْحِقْنِي بالرَّفِيقِ الأَعْلَى »

 ترجمہ: اے اللہ ! میری مغفرت فرما، مجھ پر رحم کر اور مجھے رفیقِ اعلی میں شامل کردے۔

 اور یہ دعا پڑھے

 «اللهم أعنّي على غَمَراتِ الموت أو سَكَرات الموت»

 ترجمہ. اے اللہ! موت کی سختی میں یا سکرات الموت میری مدد فرما۔

 جس پر سکرات طاری ہو اس کے متعلقین مریض کے قریب بیٹھ کر تھوڑا بلند آواز میں کلمہ شہادت اشھد ان لا الہ الا اللہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ کا ورد کرے

 جب ایک مرتبہ مریض کلمہ شہادت پڑھ لے تو اب مریض سے کچھ بات نہ کرے... کیونکہ مقصود یہی ہے کہ زبان پر آخری کلمہ کلمہ شہادت ہو.

 احکام میت از علامہ ڈاکٹر عبد الحئ عارفی رحمة اللہ علیہ 

جب روح نکل جاۓ تو میت کے ساتھ کیا کرے

 جب موت واقع ہو جاۓ تو متعلقین کو چاہئے کہ ایک کپڑے کی چوڑی پٹی لے کر میت کی ٹھوڑی کے نیچے سے نکال کر سر کے اوپر کی طرف باندھ دے تاکہ منہ کھلا نہ رہ جاۓ، اور آنکھوں کو نرمی کے ساتھ بند کر دے

 حدیث پاک میں آتا ہے, میت کے حق میں خیر کی باتیں کرو، بے شک فرشتے ان باتوں پر آمین کہتے ہیں جو لوگ میت کے حق میں کہتے ہيں

 میت کی آنکھیں بند کرے اس وقت یہ دعا پڑھے 

بِسْمِ اللهِ وَعَلى مِلَّةِ رَسُوْلِ اللهِ اللّهُمَّ يَسِّرْ عَلَيْهِ أَمْرَهُ وَسَهِّلْ عَلَيْهِ مَا بَعْدَهُ

وَأَسْعِدْهُ بِلِقَائِكَ وَاجْعَلْ مَا خَرَجَ إِلَيْهِ خَيْرًا مِمَّا خَرَجَ عَنْهُ.

ترجمہ. اے اللہ میت پر اسکا کام آسان فرما، اور اس پر وہ حالات آسان فرما جو اب اس کے بعد پیش آئینگے، اور اس کو اپنے دیدار مبارک سے مشرف فرما، اور جہاں گیا ہے ( آخرت) اس کو بہتر گر دے اس جگہ سے جہاں سے گیا ہے ( دنیا سے). 

 پھر اس کے ہاتھ پیر سیدھے کر دے، اور دونوں پیروں کے انگوٹھے ملا کر کسی کپڑے کی پٹی وغیرہ سے باندھ دے، پھر اسے کوئی چادر وغیرہ اوڑھا کر کسے چار پائی یا پلنگ پر رکھے بالکل زمین پر نہ رکھے، اور پیٹ پر کوئی بھاری چیز رکھ دے تاکہ پیٹ پھول نہ جاۓ

 جنبی یعنی جس پر غسل فرض ہو اسے اور حیض و نفاس والی عورتوں کو میت کے قریب نہ آنے دیں

 اگر ہو سکے تو میت کے قریب اگر بتی وغیرہ کوئی خوشبو دار دھونی لگا کر رکھ دے

 غسل سے پہلے اگر میت کو کسی چادر وغیرہ سے مکمل ڈھانپا نہیں گیا ہے تو میت کے قریب بیٹھ کر تلاوت کرنا مکروہ ہے البتہ تسبیح وغیرہ پڑھ سکتے ہیں 

 غسل سے پہلے اگر میت کو کسی چادر وغیرہ سے مکمل ڈھانپ دیا گیا ہے تو اس کے قریب بیٹھ کر تلاوت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے. 

حوالہ: احکام میت، البنایہ شرح الھدایہ،  (2 / 193، کتاب الصلوٰۃ، باب  صلاۃ الجنازۃ، ط؛ سعید)


انتقال کے بعد میاں بیوی کے احکام


بیوی کا انتقال ہو جاۓ تو شوہر کے لئے اس کو دیکھا جائز ہے. 


 کفن کے یا کپڑے کے اوپر سے چھونا یا جنازے کو کندھا دینا وغیرہ جائز ہے. 


 شوہر کے لئے مرحومہ بیوی کے جسم کو بغیر کپڑے کے چھونا جائز نہیں. 


 شوہر کے لئے مرحومہ بیوی کو غسل دینا جائز نہیں. 


 اگر کوئی غسل دینے والی میسر نہ ہو تو شوہر کو حکم ہے کہ ہاتھ میں کپڑا لپیٹ کر تیمم کروا دے. یہ غسل کے لئے کافی ہو جائیگا. 


 مرحومہ بیوی کو قبر میں اتارنے کے لئے اگر کوئی بھی محرم رشتے دار موجود نہ ہو تو شوہر قبر ميں اتار سکتا ہے. 

➖➖➖

 شوہر کے انتقال کے بعد بیوی اس کو دیکھ سکتی ہے، اس کے جسم کو چھو بھی سکتی ہے، غسل بھی دے سکتی ہے. 

➖➖➖

 اجنبی مرد کا انتقال ہو جاۓ اور کوئی مسلمان مرد غسل دینے والا میسر نہ ہو اور بیوی بھی نہ ہو تو حکم یہ ہے کہ کسی کافر مرد کو غسل کا طریقہ سکھلاۓ اور اس سے غسل کرواۓ کفن پہناۓ پھر عورتیں نماز جنازہ ادا کر لیں اور دفن کر دیں. 


 اجنبیہ عورت کا انتقال ہو جاۓ اور کوئی غسل دینے والی میسر نہ ہو شوہر بھی نہ ہو تو کسی بھی مرد کے لئے حکم ہے کہ ہاتھ میں کپڑا باندھ کر تیمم کروا دے اور اس کے جسم پر نظر نہ ڈالے. یہ تیمم غسل کی طرف سے کافی ہو جائیگا. 


 نابالغ مرحوم لڑکا اتنا چھوٹا ہو کہ دیکھنے سے شہوت نہ ہو تو مرد بھی غسل دے سکتا ہے اور عورت بھی، اسی طرح اگر نابامغہ مرحومہ لڑکی اتنی چھوٹی ہو کہ دیکھنے سے شہوت نہ ہوتی ہو تو اسے عورت بھی غسل دے سکتی ہے مرد بھی.

➖➖➖

 بحوالہ الدرالمختار کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، ج۳، ص۱۱۰۔ و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون في الجنائز، الفصل الثاني، ج۱، ص۱۶۰ حوالہ بہار شریعت ج اول ح چہارم ص ۸۱۳)

(باب صلاة الجنازة، 91/3، ط: زکریا)

  (شامي: 3/91 مطبوعہ زکریا دیوبند)

 احکام میت از علامہ ڈاکٹر عبد الحئ عارفی رحمة اللہ علیہ

🛑 

میت کو غسل دینے کا حقدار کون 

میت کو غسل دینے کا سب سے پہلا حقدار میت کا قریبی رشتے دار ہے، مرد کے لئے مرد اور عورت کے لئے عورت، اگر بیوی کو غسل دینے والی کوئی خاتون نہ ہو تو شوہر ہاتھ میں دستانے پہن کے تیمم کروا دیگا، اور اگر شوہر کو غسل دینے والا کوئی مرد میسر نہ ہو تو بیوی غسل دے سکتی ہے لیکن کوئی دوسری عورت شامل نہیں ہو سکتی اگر بیوی بھی نہ ہو اور کافر مرد بھی میسر نہ ہو تو عورتیں دستانے پہن کے تیمم کروا دیگی.

 غسل کا حکم

میت کے جسم پر ناپاکی لگی ہو یا نہ لگی ہو بہر صورت میت کو ایک مرتبہ غسل دینا واجب ہے 

 غسل کا وقت

👈🏻 جب کسی کی موت کا یقین ہو جاۓ تو غسل و کفن میں جلدی کرنا سنت ہے. 

👈🏻 بغیر شرعی عذر کے غسل وغیرہ میں تاخیر کرنا مکروہ ہے

👈🏻 اگر کوئی قانونی مجبوری ہو یا کوئی خاص شرعی عذر ہو تو بہتر ہے غسل اس وقت دے جب نماز و دفن کا وقت قریب ہو کیونکہ ممکن ہے تاخیر کی وجہ سے میت کے جسم سے خدانخواستہ کو ناپاکی نکلے اور دوبارہ پاک کرنا پڑے. 

👈🏻 میت کو غیر رشتے دار بھی غسل دے سکتے ہیں. 

👈🏻 اگر کوئی اجرت لے کر میت کو غسل دے تو یہ بھی جائز ہے لیکن اسے غسل دینے کا ثواب نہیں ملیگا البتہ اجرت لینا جائز ہے. 

🛑

 غسل کی تیاری کے لئے ضروری سامان

① 👇

پانی کا پتیلا یا بالٹی وغیرہ ۲، پانی ڈالنے کا لوٹا ۳، غسل کا تختہ ۴، استنجا کے ڈھیلے تین یا پانچ عدد ۵، بیری کے پتے ۶، لوبان ۷، عطر ۸، روئی ۹، نہانے کا صابن ۱۰، کافور ۱۱، تہبند ۱۲، دستانے



 (الدر المختار مع رد المحتار : ۱۹۳/۲، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، ط: دار الفکر، بیروت )

 احکام میت از علامہ ڈاکٹر عبد الحئ عارفی رحمة اللہ علیہ 


ادارہ فیض سلمان:

مفتی محمد سلیم میمن مظاہری نعمانی 

(عرف، طالب علم

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے