مولانا عبدالغنی صاحب نےجب سے ہوش سنبھالا تا دم آخر نبی پاک صل اللہ علیہ و سلم کی امت کی خدمت یہاں تک کہ اس وقت بھی ایک مدرسہ کے ڈھانچہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی تگ و دو میں تھے جبکہ جسم ناتواں و بیماری سے جکڑا ہوا تھا۔
آپ اپنے دادا محترم ولی کامل عبد الحلیم کے صحبت یافتہ جنہیں اول گوجر مفسر ہونے کا اعزاز حاصل ہے، موجودہ پاکستان کے جید علما سے علم کی تحصیل کی، لاہور یونیورسٹی سے فارسی میں فضیلت کا امتحان پاس کیا، مولانا غلام اللہ خان سے قرآن پاک پڑھا، شیخ التفسیر احمد علی لاہوری سے علم تفسیر، مولانا محمد اسماعیل سلفی گوجرانوالہ سے بھی استفادہ کیا ہے.. مظاہر العلوم سے علوم کی تحصیل کے بعد دار العلوم دیوبند سے دورہ حدیث و افتاء کیا، شیخ الاسلام حضرت مدنی کے چہیتے تھے، جن سے حضرت مدنی نے خود اپنی زندگی میں ہی بہت سارہ کام لیا اور مختلف ذمہ داریاں بھی تفویض فرمائیں، مولانا اعزاز علی امروہی کے شاگرد، مولانا ابراہیم بلیالوی شیخ المنقولات و المعقولات و مدرس صحیح مسلم کے ہونہار شاگرد اور خلیفہ مجاز، مولانا ابو الکلام آزاد سے سیاسی شعور و فکر ملت کا ورثہ پانے والے.
شاہ عبدالقادر رائے پوری کی آنکھوں کا تارا اور آخری با حیات خلیفہ مجاز، دعوت و تبلیغ کے بانیاں کے صحبت یافتہ.. حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کی امید! حکیم الاسلام قاری طیب سے حجتہ اللہ البالغہ کا درس لینے کی سعادت پائی، عبد الطیف عبد الوہاب (ازہری شیخ) کی سند سے بھی آپ روایت کرتے ہیں...
جامعہ ازہر سے اسلامیات میں ایم اے، ایم فل، پی ایچ ڈی ہیں...
آپ نے جامعہ ازہر ہی سے علم النفس میں ڈپلومہ کیا ہے...اس دور کے معاصر و مشاہیر مصری شیوخ سے بھی استفادہ فرمایا...آپ کوثر شاہ حقانی و شریف صاحب ترالی کے صحبت یافتہ ہیں.... اور مولانا اعبدالحفیظ مکی صاحب کے بھی خلیفہ مجاز ہیں.
آپ نے مدینۃ العلوم میں پروفیسر کی خدمت انجام دینے کے بعد کشمیر یونیورسٹی کو بھی اپنی خدمات کا شرف بخشا وہاں آپ شعبہ عربی کے ایچ او ڈی بھی رہ چکے ہیں...
آپ پر ایک مستشرق کا کام بھی منصوبہ شہود پر آیا ہے جس میں اس نے آپکے تجدیدی کام کو سراہا ہے
آپ بیک وقت محدث، فقیہ اور سالک و زاہد و صاحب فراست ہونے کے ساتھ فقہ المعاصرہ، سیاست میں ید طولی رکھتے تھے۔۔
آپ شیخ التفسیر، شیخ الحدیث، درسا حنفی و شافعی، استعدادا مجتہد، قدوۃ السالکین،مورخ،محقق، قاطع الحاد و ارتداد و بدعۃ، قادیانیت کے خلاف صارم المسلول، پورے ہندوستان میں بے پناہ مدارس کے بانی و سرپرست اعلی، عرب و عجم کے شیخ، حرم پاک میں درس بخاری دینے والے، قطر اور کویت میں مسند ہند امام شاہ ولی اللہ کی سند سے درس حدیث دینے والے، کویت میں متن ابی شجاع کی تعلیم دینے والے ، کشمیر میں منشی اللہ دتہ کو لاکر دعوت و تبلیغ کا کام شروع کر وانے والے، حافظ محمد چراغ نصیر القاسمی کے ساتھ کشمیر میں تحریک مدارس کی بنیاد رکھنے والے ، 'مرکز اہلسنت و الجماعت' آپ کے مدارس کی بنیاد کا اصل الاصول ہے.
وہ اتحاد امت کا شاہین! ، فکر ولی اللی کا حامل و عامل.
آپ نے ہمیشہ امت کے وسیع تر مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنی خدمات سرانجام دیں، کبھی بھی کشمیر کی خیر خواہی کے جذبہ کو نہ اپنے اندر اور نہ ہی اپنوں کے اندھر بھجنے دیا... آپ محسن ملت و بابائے قوم. آپ ہی نے 40/50 سال قبل عربی/قرآن /حدیث (مشکوۃ کتاب الفتن بالخصوص) کو عوام میں رواج دینے کی تحریک کی بنیاد رکھی.آپکو مجدد الملت کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا، آپ اس وقت برِصغیر ہند میں عمر کے لحاظ، تحصیل علم کے لحاظ سے بھی سب سے بڑے تھے.
آپ کافی دنوں سے علیل تھے کل جمعرات صبح تقریبا دس بجے جان جان آفریں کے سپرد کر دی، آج بعد نماز جمعہ بادشاہی باغ سہارنپور میں شیخ الحدیث مظاہرالعلوم مولانا محمد عاقل صاحب کی اقتداء میں آپ کا جنازہ ادا کیا گیا۔۔۔
تصانیف لطیفہ(مشہور) :
الامام مسلم ومنہجہ فی الحدیث روایۃ ودرایۃ(مقالہ دکتور)
دریافت و ترجمہ مالا بدمنہ لمیر سید علی ہمدانی..
قدیم تاریخ گجر :جس میں بالخصوص سلطنت گوجر (550-1253ء)کی تاریخ کو منصوبہ شہود پر لایا گیا ہے..
نور عرفان در موضوع سلوک (یہ دراصل آپ کی تالیف ہے جسکا اصل موضوع مکتوبات پیر شریف صاحب نقشبندی ترالی ہے)۔
منقول محمود احمد

0 تبصرے