![]() |
تصویر میں آپ جو بچہ دیکھ رہے ہیں یہ ہے وہ بچہ احمد بھائی (مولانا احمد سعید پالن پوری، استاذ جامعۃ الشیخ حسین احمد المدنیؒ) کا جو دو دن قبل الور راجھستان کے حادثہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اللہ کو پیارا ہوگیا۔۔۔۔۔۔ نام اس کا: ابو رِضا حفیظ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتنا لمبا نام ہونے کی پیچھے ایک کہانی ہے، وہ یہ کہ جب یہ پیدا ہوا تو اس کے دادا (مفتی سعید احمد پالن پوری سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دار العلوم دیوبند) نے عام معمول کے مطابق نام کے تعلق سے گھر والوں سے مشورہ کیا، سب لوگ اپنے اپنے حساب سے نام بتا رہے تھے، انہی بتائے ہوئے ناموں میں سے کسی ایک کا انتخاب ہونا تھا، سبھی نام مفرد بتائے جارہے تھے، راقم سطور نے بھی اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ: ابو رضا حفیظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت مفتی صاحب یہ نام سن کر متوجہ ہوگئے کہ یہ نام کچھ الگ سا تھا.......... دریافت کیا کہ یہ کیسا نام ہے، اس نام میں کوئی خاص بات؟؟.......... بندے نے عرض کیا کہ یہ تاریخی نام ہے.......... مفتی صاحب نے کیلکیولیٹر اٹھایا، ابجد کے حساب سے حروف کی تعداد کا مجموعہ نکالا تو وہ 2008 نکل آیا........ مفتی صاحب نے اسی نام کو فائنل کردیا کہ کاغذات میں پورا نام: ابو رضا حفیظ لکھ دیا جائے گا اور ہمارے بولنے میں مفرد نام حفیظ سے کام چل جایا کرے گا، ہمارے گھر میں یہ پہلا بچہ تھا جس کا تاریخی نام تھا
نوٹ: یہ تاریخی نام نکالنے کا کام بندہ کسی زمانے میں کرتا تھا، اب نہیں کرتا.......... یہ نوٹ اس وجہ سے لکھنا ضروری ہوا کہ کہیں قارئین کرام پرسنل پر یہ حکم دینے نہ لگیں کہ ہمارے بچے کا بھی تاریخی نام نکال دیں، اس لیے پہلے ہی عرض کردیا گیا بندہ اب یہ کام نہیں کرتا کہ تاریخی نام نکالنے میں ٹھیک ٹھاک وقت لگتا ہے، اب مدرسے کے بعد جو وقت ملتا ہے وہ سب کشکول ایپ میں لگ جاتا ہے.......... کشکول ایپ نہ جانتے ہوں تو اس لنک⬇ پر ٹچ کر سکتے ہیں
بات کہیں اور نکل گئی، واپس آتے ہیں، یہ جو بچہ تھا حفیظ؛ اس نے اپنے دادا یعنی مفتی صاحب کی توجہ اور پیار سب سے زیادہ پایا
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ مفتی صاحب کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں ما شاء اللہ بہت تھے، سب کے ساتھ انکا معاملہ پیار محبت والا معاملہ تھا، مگر ان سب بچوں کی مائیں اس بات کا خاص خیال رکھتی تھیں کہ بچہ بیٹھک میں نہ جائے کہ وہاں مفتی صاحب اپنے تصنیفی کاموں میں مشغول ہوتے تھے اور مسودہ وغیرہ کے سارے کاغذات ادھر ادھر بکھرے ہوتے تھے، اس وجہ سے بچے کو مفتی صاحب کے کاموں کے اوقات میں بیٹھک کی جانب جانے سے روکا جاتا تھا اور اگر بچہ کوئی چلا گیا تو مفتی صاحب گھنٹی بجا کر گھر والوں کو متوجہ کردیا کرتے تھے کہ بچہ کو لیجائیں کہ کہیں یہ میرے کاغذات ادھر سے ادھر نہ کردے، مگر جب حفیظ پیدا ہوا اور گھٹنوں چلنا شروع کیا اور توتلی زبان میں امی ابا بولنا سیکھا تو یہ جناب گھر کی عورتوں سے نظر بچا کر مفتی صاحب کی بیٹھک کی طرف نکل لیا کرتے تھے، اور گھٹنوں چلتا ابا ابا بولتا بیٹھک میں پہنچتا تو مفتی صاحب کے عام معمول میں پہلی بار فرق دیکھنے کو ملا، مفتی صاحب کے پوتوں پوتیوں، نواسوں نواسیوں میں حفیظ پہلا بچہ تھا جس کی جانب مفتی صاحب کے دل کا میلان ہوا.......... اس دل کے میلان کا مطلب یہ نہیں ہے مفتی صاحب دیگر بچوں کے ساتھ رحمت و شفقت کا معاملہ نہیں فرماتے تھے، نہیں نہیں! دیگر بچوں سے بھی محبت تھی، مگر اس حفیظ نامی بچے کو دیکھ کر مفتی صاحب کی طبیعت کھل اُٹھتی تھی، طبیعت کا یہ کھلا پن انکے چہرے پر صاف محسوس ہوتا تھا، گھر کی عورتوں سے جب کبھی نظر بچا کر یہ بیٹھک میں پہنچا تو مفتی صاحب اپنے کام چھوڑ کر اسے اپنی گود میں آنے دیتے تھے، وہ جو بچوں کو عام طور سے سونگھا، چوما اور چاٹا جاتا ہے وہ والی کیفیت مفتی صاحب کی جانب سے اس بچہ کے ساتھ دیکھنے کو ملتی تھی، پھر یہ بچہ بھی بڑی لگاوٹ کا مظاہرہ کرتا اور مفتی صاحب کی گردن اور پشت کی جانب اپنی ساری ہمالیہ پیمائی کرتا ۔۔۔۔۔ کچھ دیر اس بچے کے ساتھ کھیلنے کے بعد اب مفتی صاحب گھنٹی بجا دیتے اور زبان حال سے کہتے کہ بھائی اسے لے جاؤ، ورنہ یہ کام نہیں کرنے دے گا مجھے.......... اور ایسا تو بہت بار ہوا کہ مفتی صاحب اپنے تصنیفی کام کرتے کرتے تھکتے اور درمیان میں وقفہ لینا ہوتا تو گھنٹی بجا دیتے، ہم میں سے جب کوئی پہنچتا تو فرماتے: ایک کپ چائے کیلیے کہہ دو اور حفیظ کو بھیجو.......... جناب حفیظ تو جاتے ہی تھے دیگر بچے بھی چلے جاتے اور یوں سب اپنے دادا کے پیار کے ساتھ ساتھ انکی چائے کے ساتھ آنے والے وائے میں سے بھی اپنا حصہ بقدر جثہ پاتے، دس پندرہ منٹ بعد یہ وقت ختم ہوتا تو چائے ناشتے کے برتن کے ساتھ بچوں کو بھیج دیا جاتا، اس کے بعد مفتی صاحب پھر اپنے کاموں میں لگ جاتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ مفتی صاحب کو اس بچے کے ساتھ والہانہ پیار کرتے دیکھ عصر بعد آنے والے طلبۂ دارالعلوم دیوبند اور اساتذۂ دار العلوم دیوبند کا بھی یہ لاڈلا بن گیا، اور راستے یا گلی میں جہاں بھی یہ بچہ ملتا اساتذہ و طلبہ دار العلوم دیوبند اس کو گود میں اٹھا لینا اور چومنا نہ بھولتے
● گزشتہ مہینے رمضان میں اس بچے نے اپنی پہلی محراب سنائی جوکہ قضائے الہی سے اس کی اخری محراب ثابت ہوئی .......... یکم رمضان کو عشا کی اذان کے بعد مجھے دکھائی دیا، کرسی پر بیٹھا قرآن کریم میں غرق کچھ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کچھ کیا دیکھ رہا ہوگا، تراویح سنانے والے جانتے ہی ہونگے کہ پہلے دن حافظ کتنے دباؤ میں ہوتا ہے، آخری وقت تک متشابہات اور رکوع کے بعد کی آیتیں تراویح سنانے والا دیکھتا رہتا ہے، پھر جس کی پہلی محراب ہو تو اور وہ تو اور بھی زیادہ ٹینشن اور فکروں میں دکھائے دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔ عام طور سے اپنی زندگی میں یہ بچہ بے فکر تھا، اور اس بے فکری والی زندگی کا اثر اس کے بدن پر بھی نظر آتا تھا کہ کافی گول مٹول تھا، مگر یکم رمضان کو عشا کی اذان کے بعد اچھے اچھے ٹینشن میں آجاتے ہیں، یہ ابھی آیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔ بندے نے آواز لگائی
بھائی حفیظ!
جی چچا جی!
اس نے جی چچا جی اس طرح کہا جیسے میں اسکو ڈھائی عشروں پر محیط اپنے تراویح کے تجربے میں سے کوئی اہم ترین گر کی بات بتانے والا ہؤونگا، مگر مجھے تو اس کے موٹے بدن اور بے فکر زندگی کے تناظر میں چھیڑنا تھا سو چھیڑا:
کیا بات ہے بھائی آج کچھ پتلے نظر آرہے تم..........؟!
یہ سن کر اس نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ دی، اور قرآن کریم میں زبان حال سے یہ کہتے ہوئے پھر غرق ہوگیا کہ انہیں اٹھکھیلیاں سوجھی ہیں یہاں جان ڈربے میں آئی ہوئی.......... بس اسی ایک دن یہ تراویح کے دباؤ میں نظر آیا باقی دنوں میں پھر وہی بے فکری والی زندگی تھی ۔۔۔۔۔ تراویح بھی ما شاء اللہ اچھی سنائی، بس دو یا زیادہ سے زیادہ تین غلطیاں آیا کرتی تھیں اور کبھی تو بغیر غلطی کے بھی سنایا
● موٹر سائیکل چلانے کو جناب کا بہت شوق تھا، جب بندے کی اہلیہ اپنے مائیکے: ممبئی مہینے بھر کو بچوں سمیت جاتی، اور مجھے کسی کام کی ضرورت پیش آتی تو میں عام طور سے حفیظ سے کہتا.......... اپنے سب بھتیجوں میں میری صرف اسی سے چھیڑ چھاڑ تھی، باقی دیگر بھتیجوں سے محبت و احترام والا تعلق ہے، مگر بھائی حفیظ کے ساتھ قدرے چھیڑ چھاڑ والا معاملہ تھا، جب حفیظ کو کام بتاتا تو کبھی کبھار اپنے شوق سے مجبور ہوکر بڑے عاجزانہ انداز میں درخواست کرتا کہ چچا جی موٹر سائیکل کی چابی اگر دیدیں تو.......... یعنی کہ آپ کا کام بھی ہوجائے گا اور میرا شوق بھی پورا ہوجائے گا، مگر اس بچہ کی عمر کی وجہ سے میں کبھی اس کو چابی نہیں دے پایا کہ پندرہ سولہ سال کے بچے موٹر سائیکل چلاتے نہیں، اڑاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اس خدشے کے پیش نظر جب بھی اس نے چابی والی یہ درخواست کی تو ایک ہی جواب دیا کہ ضرور دے دونگا چابی! بس ایک کام کروا دو، وہ یہ کہ اپنی امی یا ابو سے بس مجھے ایک میسیج کروا دو، فورا سے پیشتر چابی دے دونگا.......... یہ سن کر حفیظ تھوڑا روہانسا سا ہوجاتا تھا ۔۔۔۔۔۔ اسے یہ معلوم تھا کہ امی ابو کبھی بھی اس چیز اجازت نہیں دیں گے، بلکہ ایسی اجازت لینے پر پٹائی بھی ہوسکتی ہے، روہانسی شکل اور بھاری قدموں کے ساتھ وہ چلا جاتا اور یا تو پیدل اس کام کو انجام دیتا یا اپنی سائیکل پر ۔۔۔۔۔۔۔ آج جب اس کی عاجزانہ درخواست اور روہانسی شکل کو یاد کرتا ہوں تو آنکھیں ایک دم بھیگ جاتی ہیں، ان سطور کے لکھتے وقت پھر بھیگ گئی ہیں، یہ حسرت سی کہیں رہ گئی ہے کہ بھائی ایک بار تو موٹر سائیکل کی چابی دے دیتا.......... مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ ہمارا بھائی حفیظ اتنی جلدی ہمیں چھوڑ کر اللہ کے پاس چلا جائے گا ۔۔۔۔۔
بھائی حفیظ!.......... معاف کرنا کہ کبھی چابی نہ دے سکا مگر میں تمہارے لیے نمازوں کے بعد دعا گو ہوں کہ الہ العالمین! یہ جو اس بچے نے پہلی محراب سنائی ہے اس محراب، تراویح اور قرآن کریم کی برکت سے محض اپنا فضل فرماتے ہوئے اس بچے کی مغفرت فرما، ساتھ میں اس کی والدہ کی بھی مغفرت فرما کہ وہ حافظ کی ماں تھیں .......... نہ صرف مغفرت فرما بلکہ الہ العالمین ان دونوں ماں بیٹے کے درجات کو بلند بھی فرما اور قرآن کریم کی آیت: وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ اتَّبَعَتۡہُمۡ ذُرِّیَّتُہُمۡ بِاِیۡمَانٍ اَلۡحَقۡنَا بِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ مَاۤ اَلَتۡنٰہُمۡ مِّنۡ عَمَلِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ کی رو سے اس بچہ کو اسکی والدہ سمیت وہ درجہ عطا فرما جو آپ نے اس کے دادا کو محض اپنے فضل سے عطا فرمایا ہوگا.......... اس کے دادا کیلیے الہ العالمین ہم جوارِ نبی کے سوالی ہیں، وما ذلک علیک بعزیز .......... الہ العالمین جنت کے بلند و بالا مقام میں بھائی حفیظ کو کوئی ایسا پرندہ بھی عطا فرما جس کے کان پکڑ کر یہ اسے اڑاتا پھرے کہ اسے موٹر سائیکل اڑانے کا بہت شوق تھا۔۔۔۔۔۔ ختم شد
گزارش: یہ چند باتیں تھیں، جو میرے دل پر مسلسل بوجھ بنائے ہوئے تھیں، سوچا کہ ایک بار انکو لکھ دوں تاکہ دل پر سے انکا بوجھ اتر جائے اور اپنے کاموں میں لگنا آسان ہوجائے، یہ باتیں فی البدیہ و قلم برداشتہ لکھی گئی ہیں، پروف ریڈنگ بھی کوئی خاص نہیں کی گئی اس لئے زبان و بیان کی غلطی ہوسکتی ہے، نظر آئے تو صرف نظر کرنے کی گزارش ۔۔۔۔۔ پھر پوست لمبی بھی بہت ہے، اتنی لمبی پوسٹ عام طور سے پڑھی نہیں جاتی، یہاں بھی صرف نظر کی گزارش۔۔۔۔۔۔ پوسٹ کے ساتھ تصویر کیوں دی گئی ہے وغیرہ وغیرہ، صرف نظر کی گزارش ۔۔۔۔۔ اس پوسٹ کو فیملی گروپ میں بھیج کر اس کی اجازت نہیں لی گئی یا اس میں حک و فک نہیں کروایا گیا، دل کی بات سیدھی سوشل میڈیا پر لکھ دی گئی، امید ہے کہ گھر والے بھی اس گستاخی پر معاف رکھیں گے ۔۔۔۔۔۔ غرضیکہ تنقید یا ڈانٹ والا کوئی کام اس پوسٹ پر نہیں کریں گے کہ یہ ایک دل ٹوٹے کی پوسٹ ہے، کسی سے تنقید برداشت نہ ہورہی ہو تو وہ صاحب پرسنل میں اپنا شوق پورا فرما لیں.......... یہاں تبصروں کے خانے میں اگر کرسکتے ہوں تو دعا ضرور فرمائیں کہ ان کی ضرورت ہے، یہ دعائیں ہی سرمایہ ہیں اور انہی کے حصول کیلیے اس بچے کیلیے یہ چند سطریں بھیگی آنکھوں کے ساتھ لکھی گئی ہیں .......... شکرا جزیلا




0 تبصرے