Ticker

6/recent/ticker-posts

سمیر اور عبداللہ کی کہانی


دمشق میں 1889 میں لی گئی ایک حقیقی تصویر۔

 سمیر نامی ایک معذور عیسائی بونا اپنے نابینا مسلمان دوست عبداللہ کے کندھے پر سوار ہے ۔

 سمیر اپنے سفر میں عبداللہ کے کندھے پر انحصار کرتا تھا 


 اور دمشق کی  گلیوں میں اس کی رہنمائی سے عبداللہ گڑھوں اور اونچی جگہوں سے گزرتا تھا۔

ایک نے دیکھا اور دوسرا چلتا، اس طرح انہوں نے ایک دوسرے کو مکمل کیا۔

  دونوں بچپن میں یتیم ہوگئے تھے اور بغیر سرپرست کے ایک کمرے میں اکٹھے رہتے تھے اور ساتھ کام کرتے تھے۔

 سمیر ایک کہانی سنانے والا تھا اور دمشق کے ایک پرانے اور مشہور کافی ہاؤس میں لوگوں کو کہانیاں سنایا کرتا تھا،

اور عبداللہ روشندل کافی ہاؤس کے پاس چنے اور  پھلیاں بیچتا تھا۔

 عبداللہ سے پہلے ہی سمیر مر گیا اور عبداللہ اس سے شدید متاثر ہوا کہ وہ پورا ہفتہ اپنے کمرے میں روتا رہا، یہاں تک کہ اس کی بے جان لاش اس کے کمرے سے ملی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے