Ticker

6/recent/ticker-posts

یوم جمہوريہ، (۲۶ جنوری) کی کچھ خاص باتیں


     1: 26 جنوری کو یوم جمہوریہ پریڈ کی شروعات 1950 میں آزاد ہندوستان کے آئین نافذ ہونے کے ساتھ ہوئی تھی۔ 2: سال 1950 سے 1954 تک یوم جمہوریہ کی پریڈ راج پتھ پر نہ ہوکر، چار الگ الگ جگہوں پر ہوئی تھیں۔ 1950 سے 1954 تک یوم جمہوریہ پریڈ کا انعقاد بالترتیب ایرون اسٹیڈیم (نیشنل اسٹیڈیم)، کنگس وے، لال قلعہ اور رام لیلا میدان میں ہوا تھا۔

3: 1955 سے یوم جمہوریہ پریڈ کا انعقاد راج پتھ پر شروع کیا گیا۔ تب راج پتھ کو ‘ کنگس وے ‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ تبھی سے راج پتھ پر اس کا انعقاد ہوتا ہے۔

4: یوم جمہوریہ کی تقریب میں ہرسال کسی نہ کسی ملک کے وزیر اعظم یا صدر یا حکمراں کو مہمان خصوصی کے طور پر حکومت کے ذریعے مدعو کیا جاتا ہے۔ اس سال مصر کے قابض فوجی صدر عبد الفتاح السیسی مدعو ہیں۔

5: 26 جنوری 1950 کو پہلے یوم جمہوریہ کی تقریب میں انڈونیشیا کے صدر ڈاکٹر Sukarno مہمان خصوصی تھے۔

6: 26 جنوری 1955 میں راج پتھ پر منعقد پہلی یوم جمہوریہ تقریب میں پاکستان کے گورنر جنرل ملک غلام محمد مہمان خصوصی تھے۔

7: قومی ترانے  کے دوران 21 توپوں کی سلامی دی جاتی ہے۔ 21 توپوں کی یہ سلامی ترانے  کی شروعات سے شروع ہوتی ہے اور 52 سیکنڈ کے ترانے کے ختم ہونے کے ساتھ پوری ہو جاتی ہے۔

8: 21 توپوں کی سلامی اصل میں ہندوستانی فوج کے7 توپوں کے ذریعے دی جاتی ہے، جن کو پونڈرس کہا جاتا ہے۔ ہرایک توپ سے تین راؤنڈ فائرنگ ہوتی ہے۔ یہ توپیں 1941 میں بنی تھیں اور فوج کے تمام رسمی پروگراموں میں ان کو شامل کرنے کی روایت ہے۔

9: بہترین پریڈ کی ٹرافی دینے کے لئے پورے راستے میں کئی جگہوں پر ججوں کو بٹھایا جاتا ہے۔ یہ جج ہر ایک جماعت کو 200 معیارات پر نمبر دیتے ہیں۔ اس کی بنیاد پر بہترین مارچنگ جماعت کا انتخاب ہوتا ہے۔ کسی بھی جماعت کے لئے اس ٹرافی کو جیتنا بڑے فخر کی بات ہوتی ہے۔

10: پریڈ میں شامل تمام جھانکیاں 5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی متعینہ رفتار سے چلتی ہیں، تاکہ ان کے درمیان مناسب دوری بنی رہے اور لوگ آسانی سے ان کو دیکھ سکیں۔ ان جھانکیوں کے ڈرائیور ایک چھوٹی سی کھڑکی سے ہی آگے کا راستہ دیکھتے ہیں، کیونکہ سامنے کا تقریباً پورا شیشہ سجاوٹ سے ڈھکا رہتا ہے۔

11: یوم جمہوریہ کے انعقاد کی ذمہ داری وزارت دفاع کی ہوتی ہے۔ انعقاد میں تقریباً 70 دیگر محکمہ اور تنظیم وزارت دفاع کی مدد کرتے ہیں۔ پریڈ کے منظم مارچ کے لئے فوج کے ہزاروں جوان سمیت الگ الگ محکمہ جات کے لوگ  کافی تعداد میں لگائے جاتے ہیں۔

انتخاب: راہی حجازی


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے