📿
(Debit Card)
ڈیبٹ کارڈ (بطاقۃ الحسم الفوری) کا تعارف
بینک یہ کارڈ اُس شخص کو جاری کرتا ہے جس کا پہلے سے اس بینک میں اکاؤنٹ موجود ہو۔ اس کارڈ میں حاملِ بطاقۃ یعنی کارڈ ہولڈر کو صرف اتنی ہی رقم نکالنے کی سہولت دی جاتی ہے جتنی کہ اس کے اکاؤنٹ میں موجود ہوتی ہے۔ اس کارڈ میں ادھار رقم لینے کی سہولت نہیں دی جاتی اور نہ ہی اس میں کارڈ ہولڈر اور بینک کے مابین کوئی سودی لین دین ہوتا ہے۔ اس کارڈ کے ذریعے رقم نکالی بھی جاسکتی ہے، منتقل بھی کی جاسکتی ہے، اس کے ذریعے خریداری بھی کی جاسکتی ہے اور اس کے ذریعے مختلف خدمات کی اُجرت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ بینک اس کارڈ کے جاری کرنے اور استعمال کرنے کی فیس وصول کرتا ہے۔
📿
(Debit Card)
ڈیبٹ کارڈ کے استعمال کا شرعی حکم:
ڈیبٹ کارڈ کا استعمال جائز ہے کیوں کہ اس میں نہ تو قرض کی صورت ہے اور نہ ہی سود کی، البتہ اس کو غیر شرعی کاموں میں استعمال کرنا جائز نہیں جیسا کہ ظاہر ہے۔
(فقہ البیوع، فتاویٰ عثمانی)

0 تبصرے