کہنا تو نہیں چاہتا مگر کہنا پڑتا ہے،
محبت میں دردِ دل سہنا پڑتا ہے،
اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی اکیلے رہنا پڑتا ہے،
ہاں خوش ہوں! سب سے یہی کہنا پڑتا ہے،
اس لئے یاروں اب تو جاگ جاؤ،
محبت کے کاغزوں کو آگ لگاؤ،
پھر اسی آگ پر چائے بناؤ،
خود بھی پئیو اوروں کو بھی پلاؤ،
دلوں کا دلوں سے کچھ میل نہیں ہوتا ہے،
پیسوں کا ہی بس یہ سب کھیل ہوتا ہے،
غریب کی محبت پر غریبی کی مار ہوتی ہے،
اور امیری تو خود محبت کی خریدار ہوتی ہے،
دل کھول کے جس میں خرچے نہیں ہوتے،
پھر ایسی محبت کے چرچے بھی نہیں ہوتے،
محبت کرنے جیسی کوئی حماقت نہیں کرنا،
یعنی کے خسارے کی تجارت نہیں کرنا!
ابوذر آصف💔

0 تبصرے