پرانی بات ہے۔ لاڑکانہ میں میرا کُتب خانہ تھا۔ مجھے پتہ چلا کہ ایک تعلق دار نے پیٹھ پیچھے میری برائی کی ہے۔ میں ان سے بدگماں ہوا اور کتب خانے پر کام کرنے والے نوجوان ہم کار کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ آئندہ اس شخص سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔
میرا قطع تعلق کا ارادہ بھانپ کر ہم کار ملازم نے ایک جملہ کہا جو آج بھی دل پر نقش ہے اور انسانوں سے معاملات کرنے پر مجھے بہت کام آتا ہے۔
کہنے لگا: سر! اصل چیز لوگوں کے ظاہری رویّے ہوتے ہیں، پیٹھ پیچھے تو لوگ بادشاہوں تک کو بُرا بھلا کہہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اس لیے اپنے تعلقات لوگوں کے باطن پر نہیں بلکہ ظاہر پر استوار کریں۔
منقول
بشکریہ کشکول اردو راہی حجازی

0 تبصرے