Ticker

6/recent/ticker-posts

یک زمانہ صحبت با اولیا، بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا


از قلم:  چاہت محمد قاسمی

 ماہ نامہ صداۓ حق گنگوہ کےمدیرمحترم مفتی ساجد کھجناوری زید فیضہ کی معیت میں گزشتہ جمعہ کو ہریانہ کے ایک تاریخی قصبہ بوڑیہ ضلع یمنانگر میں نمونہ اسلاف پیر طریقت شیخ المشائخ حضرت مولانا قاری شاہ عبدالستارمفتاحی ادام اللہ افاضاتہ  کی خدمت میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی ، سچ پوچھئےتو امت کی تڑپ رکھنے والے ایسے باہمت بزرگ اب کہاں ملتے ہیں؟  جو صبح آٹھ بجے سے لیکردیر رات  تک مسلسل  لوگوں سے ملاقات کرتے رہیں،تسلسل کے ساتھ پندونصائح سےنوازتے رہیں، اللہ سے روشناس کراتے رہیں، دل کو تڑپاتے اور جگر کو گرماتے رہیں، روح کوتازگی اورفکرکو پاکیزگی عطا کرتے نیزقلب وقالب کو بشاشت بخشتے رہیں۔ 

ڈھونڈوں گے اگرملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم 

ہم عصربعد بوڑیہ پہنچے اور قبل از مغرب بلا توقف حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے ، رفیق محترم حضرت مفتی ساجد کھجناوری( جنھیں بندہ دوماہ سے مسلسل بوڑیہ جانے اور حضرت سے ملاقات کرانے کیلۓ توجہ دلارہاتھا )  کا خیال تھا کہ پہلے علیک سلیک کرکے صرف حاضری لگوالیں اور پھر مغرب بعد بالتفصیل مرشدگرامی سے استفادہ رہے گا لیکن وہاں کےروحانی ماحول میں اتنا مزہ آیا کہ مغرب کی اذان سن کر ہی نماز کے لئے اٹھنے کی نوبت آئی  ۔ پھر بعد از مغرب بیٹھے تو عشا کی نماز کے لئے موذن نے صدا لگائی  اس وقت اٹھے اور پھر بعد نماز عشا بیٹھے تو کافی وقفہ کے بعد نہ چاہتے ہوئے ہی گھر کی راہ لینی پڑی، اس دوران حضرت بوڑیوی نے بہت قیمتی اور دل پذیر نصیحتیں فرمائیں،  کچھ بزرگوں کی باتیں بیان کیں ، اسلاف کے واقعات کا تذکرہ فرمایا، اپنے شیخ حضرت مسیح الامت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی شفقتیں اور نصیحتیں بیان فرمائیں،کہاں تک عرض کروں ؟ بعض دفعہ تو ایسی روحانی بیماریوں کا ذکر کیا کہ ہم اب تک سوچتے ہیں کہ شاید حضرت کو ہمارے گناہوں اور بیماریوں کا کشف و الہام ہوا ہوگا، تبھی تو ان بیماریوں کا تذکرہ آیا جو ہمارے اندر موجود تھیں،  اسی دوران تلاوت قرآن کا تذکرہ ہوا تو اپنے سادہ لیکن مٹھاس بھرے انداز میں قرآن کے فضائل بیان کرکے قرآن کی محبت ہمارے دلوں میں موجزن فرمادی، اکثرحاضرین سے ان کے اشتیاق پر سورہ فاتحہ سنی اور سنانے والوں کو سو سو روپئے انعام عطا فرمائے، جن میں بندہ بھی موجود تھا،  بعد ازاں خود بھی سورہ فاتحہ پڑھکر سنائی ، اللہ اکبر اس عمر اور بیماری کی حالت میں ،جب کہ کھانسی بھی بہت زیادہ اٹھ رہی تھی اتنی خوبصورت ادائیگی مخارج وصفات کی بھرپوررعایت، شاندار تلفظ اور بہترین لب و لہجہ کے ساتھ سورہ فاتحہ پڑھی کہ دل شاد ہوگیا،اہل مجلس کو بھی قواعد و تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے پر رغبت دلائی۔ حسن اتفاق کہ بہت سے خواص اور اہل علم بھی مجلس میں موجود تھے ، جامعہ اسلامیہ ریڑھی کے مہتمم اور صدرمدرس صاحبان بھی تشریف لے آۓ وہ غالبا کسی پروگرام میں حضرت کو شرکت کی دعوت دے رہے تھے ، بعد میں معلوم ہوا کہ دارالعلوم دیوبند کی طرح وہاں بھی حضرت کے مجازومتعلقین موجود ہیں اور اہل علم وفضل آپ کی طرف  رجوع کرتے ہیں ، پھر 

بعد عشا جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ کے موقر استاد عظیم بزرگ، کئی اللہ والوں کے مجازبیعت حضرت مفتی سلمان صاحب گنگوہی دامت برکاتہم کو دستار خلافت سے نوازا اور تھانوی سلسلہ کے فیوض وبرکات اور اس کی نزاکتوں سے بھی آگاہ فرمایا۔ اللہ دونوں حضرات کی عمر میں برکت عطا فرمائے، اپنے ان محترم خلیفہ کو خاص طور سے ایک نصیحت یہ فرمائی کہ ہم نے  کبھی بھی اس طریق سے شہرت نہیں چاہی اور آپ بھی اس کو نام ونمود یا شہرت کا ذریعہ مت بنانا،واقعی ایسے بے لوث اور سادہ بزرگ چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔

بہرحال ہم اتنے محظوظ ہوئے کہ وقت کیسے گذر گیا پتا بھی نہیں چلا اور کمال یہ ہے کہ اس ضعف اور کمزوری کی حالت میں حضرت بھی ہشاش بشاش نظر آرہے تھےجبکہ حضرت اپنی حیات عزیزکی پچاسی بہاریں دیکھ چکے ہیں بارک اللہ فی حیاتہ۔،ایسا لگتا تھا کہ اگر متعلقین کی راحت کا خیال نہ ہوتا تو حضرت پوری رات اسی طرح گذار دیتے ، واپسی میں ہمارے ایک ساتھی نے  کہابھی جو یقینا ایک حقیقت تھی کہ حضرت امت کا اتنا درد رکھ کر بیٹھے ہیں کہ گویا پوری امت کو جنت میں آج ہی پہنچا کر دم لیں گے،جب بھی کچھ بیان فرماتے تو درمیان میں بار بار استغفار پڑھنا اور پڑھوانا نہیں بھولتے تھے۔ اتباع  بزرگاں کے پیش نظر ہم بھی اخیر میں استغفار پڑھتےرہے۔

استغفر اللہ الذی لا الہ الا ہو الحی القیوم واتوب الیہ جیسے میٹھے بول جب نوک زباں ہوں تو مزہ ہی دوسرا ہوتا ہے ، اسی محویت کے عالم میں بندہ نے گھڑی دیکھی توشب کے نو بجارہی تھی جبکہ مفتی ساجدصاحب کو مطالعہ کی وجہ سے جلدی واپسی پر اصرارتھاچنانچہ ہم نے حضرت سے دعاکی درخواست کرکے واپسی کی اجازت چاہی تو آپ نے دعاؤں کے تحفہ کے ساتھ ہمیں رخصت کیا اورہم دوبارہ جلدی ہی پھر حاضرہونے کا ارادہ لے کر بخیروسلامت گنگوہ لوٹ آۓ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے