Ticker

6/recent/ticker-posts

دروازہ ولایت تا قیامت کھلا رہے گا


 اللہ کی رحمت کا دروازہ ابھی کھلا ہوا ہے یہ نہ کہو کہ بڑے بڑے اولیاء چلے گئے اب وہ زمانہ نہیں ہے۔ نہیں! وہی زمانہ ہے جب خالق زمانہ موجود ہے تو زمانہ کیا بیچتا ہے۔

پیر حکیم الامت حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خدا کی قسم آج بھی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ، امام رازی رحمۃ اللہ علیہ، جیسے اولیاء موجود ہیں۔ کر سیاں پر ہیں بھری ہوئی ہیں، کوئی کرسی ولی اللہ کی خالی نہیں۔ بس ہماری آنکھوں میں قصور آگیا ہے اور فتور آگیا ہے حکیم الامت نے قسم کھا کر یہ شعر پڑھا تھا۔ 

ہنوز آں ابر رحمت درفشاں ست

وہ رحمت کا بادل آج بھی برس رہا ہے۔ جو شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ، شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ، اور حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ اور چاروں سلسلوں کے اولیاء پر برسا تھا جو ابر رحمت اس وقت برس رہا تھا وہ آج بھی موجود ہے۔ 

خم و خم خانہ با مہر و نشان ست 

اللہ کی محبت کے شراب خانے اور اللہ کی محبت کے خم و سبو شراب محبت کے مٹکے اور بوتلیں سرکاری مہر لگی ہوئی آج بھی سیل بند ہماری طلب کے انتظار میں ہیں۔ اس شراب محبت کے مست آج بھی موجود ہے اور قیامت تک رہیں گے۔ 

( مواعظ جلد 5)

مولانا شاہ حکیم محمد اختر  صاحب رحمۃ اللہ علیہ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے