Ticker

6/recent/ticker-posts

کتابوں میں دفن ہونے والا عربی ادب کا ستون: " الجَاحِظ


أبو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ" ؛ عرب دنیا کا عظیم ادیب ؛ فلسفی؛ متکلم؛ مؤرخ اور ماہر حیاتیات تھا۔159 ہجری میں بصرہ میں پیدا ہوا۔ عقائد میں معتزلی تھا۔ اس کے لقب "جاحظ" کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب یہ پیدا ہوا تو اس کی آنکھیں باہر کو ابھری ہوئی تھیں؛ یہ وصف اس کا لقب بن گیا۔(عربی میں پھولی آنکھوں کو "جحوظ" کہتے ہیں)۔ جاحظ خوش شکل نہ تھا؛ عرب کہتے ہیں اگر علم و فضیلت ; شکل و صورت کی محتاج ہوتی تو" جاحظ "؛ اتنی قابلیت اور عظمت کبھی نہ پاتا۔ ایک بار اس کے دروازے پر ایک آدمی آیا اور جاحظ کے خادم سے کہا کہ جاحظ کیا کر رہا ہے؛ خادم نے کہا وہ آئینے کے سامنے یہ دعا پڑھ کر اللہ پر جھوٹ بول رہا ہے :
"اللهُمَّ كَماَ حسّنت خَلقي ، فحسّن خُلقي"
(اے میرے اللہ! جیسے تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے ؛ میرا اخلاق بھی ویسے ہی اچھا کر دے)؛ کیوں کہ جاحظ خوبصورت شکل والا نہ تھا۔
اس کی کتاب "البيان و التبيين" عربی ادب و زبان کی اہم ترین کتاب ہے ؛ ابن خلدون نے کہا کہ اس جیسی کتاب نہ جاحظ سے پہلے کسی نے لکھی اور نہ بعد میں کسی نے۔ اس کی علم حیاتیات پر شہرہء آفاق کتاب " کتاب الحیوان" ؛ اپنے موضوع پر ایک نادر تصنیف ہے۔ جاحظ سے پہلے اس انداز سے جانوروں پر علمی تحقیق نہیں کی گئی۔جاحظ نے اس میں جانوروں کی زندگی اور صفات سمیت سائنسی اور تاریخی روایات کے تناظر میں شاہکار بحثیں کی ہیں۔ ڈارون~ سے ایک ہزار سال پہلے جاحظ وہ سب باتیں اپنی اس کتاب میں بیان کر چکا ہے جو ڈارون کی طرف منسوب ہیں۔ علامہ اقبال ~ نے 1930 میں اپنے ایک لیکچر میں کہا :
"جاحظ کا انداز -اصل النواع- اور ماحولیاتی تبدیلی کے بارے کہیں زیادہ بہتر اور واضح ہے"۔ عہد قدیم سے لے کر اسلامی دور تک جانوروں کے حالات اور جسمانی اور مسکنی تبدیلیوں کے بارے بھی خوب لکھا ہے۔ مثال کے طور پر "فاختہ" کے گلے کی رنگ دار دھاری؛ جسے عرب " طوق الحمامة" کہتے ہیں ؛ اس کی اقسام؛ حجم اور رنگ پر بیان کرنے کے بعد لکھا کہ نبی سیدنا نوح علیہ السلام کی کشتی جب طوفان کے بعد پانی پر بہتی؛ جودی پہاڑ پر ٹھہری تو سیدنا نوح علیہ السلام نے فاختہ کو بھیجا کہ وہ اڑ کر خشکی کا پتہ لگائے ۔ ان کی دعا پر اللہ نے فاختہ کو اس خدمت کے صلے میں گلے کا خوبصورت "طوق" عطا کیا؛ جو اہل عرب کے نزدیک محبت کی علامت ہے۔ اس کے علاوہ جاحظ نے علم الکلام پر کئی رسائل لکھے؛ فن بلاغت پر بھی کئی مقالے اس کے قلم سے سپرد قرطاس ہوئے ۔اپنے ہم عصر اور گزرے لوگوں کے احوال پر بھی ایک کتاب " کتاب البخلاء" لکھی جس میں ان کے بخل بارے حیرت انگیز نفسیاتی اوراد اور محیر العقول واقعات کو بیان کیا۔ اس کتاب کا موضوع علم و ادب کا مزاح ہے ۔ ایک واقعہ لکھتے ہیں:
" کہ خراسان میں چند آدمی سفر پر تھے رات پڑ گئی؛ انہوں نے چراغ جلانے کے لیے پیسے جمع کیے تو ایک آدمی نے پیسے دینے سے انکار کر دیا؛ جب چراغ جلا تو ان سب نے اس کنجوس شخص کی آنکھوں پر رومال باندھ دیا تا کہ وہ چراغ کی روشنی حاصل نہ کر سکے ؛ جب رات گئے وہ سونے لگے تو انہوں نے چراغ گل کر کے اس کی آنکھیں کھولیں".
جاحظ کی 150 سے زائد کتب ہیں۔
📖
کتاب سے محبت بارے جاحظ کے بہت سے لازوال اقوال ہیں ؛ :
▪︎
کتاب ایسا ہم نشین ہے جو تمہارا وقت خراب نہیں کرتا؛ ایسا بہترین دوست ہے جو دوستی نہیں بدلتا ؛ ایسا ہمنوا ہے جو تجھے اکتاتا نہیں؛ ایسا ہمسایہ ہے جو تجھے پریشان نہیں کرتا؛ کتاب ایسا اچھا ساتھی ہے جو تمہارے مال و متاع پر نظر نہیں رکھتا اور نہ اسے لینا چاہتا ہے؛ نہ تمہارے ساتھ دھوکہ کرتا ہے اور نہ منافقت برتتا ہے اور نہ ہی تمہارے بارے جھوٹ بول کر تمہیں مشکل میں مبتلا کرتا ہے ۔
▪︎
 کتاب ایسی ہونی چاہئے کہ جب تو اس پر نظر مارے تو تیری خوشی بڑھتی جائے اور تیری طبعیت خوشگوار ہو جائے؛ اور پھر اسے پڑھنے کے بعد تیری زبان علم میں بڑھ جائے ؛ تیرا بیان سلیقہ مند خوبی سے بھر جائے اور تیرے الفاظ علم و ادب کے شیرے میں بھیگ جائیں۔
▪︎
کتاب کے ساتھ ایک مہینہ گزارنے سے تجھے وہ باتیں پتہ لگ سکتی ہیں جو آدمیوں کے ساتھ ایک زمانہ رہنے سے بھی شاید تجھے معلوم نہ ہوں۔
▪︎
کتاب سفر میں بھی تیرا ایسا ہی تابع فرمان دوست ہے جیسا کہ حضر میں ؛ اور تیری نیند میں بھی خلل نہیں ڈالتا اور نہ بے وجہ بیدار کر کے تجھے اذیت دیتا ہے۔
▪︎
 کتاب ایسا معلم ہے کہ تو اگر اس کے درس سے غیر حاضر بھی ہو جائے گا تو تجھے حقیر جان کر خود سے دور نہیں کرے گا؛ کتاب تیرا ایسا راز دان ہے جو تجھ سے جدا ہو کر بھی تیرے راز افشان نہیں کرتا۔
▪︎
 تو اگر کتاب سے خود کو دور بھی کرے گا تو وہ بے رخی نہیں کرے گی؛ تیری بے وفائی پر بھی محبت سے گلے لگائے گی۔
▪︎
کتاب ایسا داستان گو ہے جو تجھے بیتے ہوئے زمانوں کے بارے خبر دیتا ہے اور مرے ہوئے لوگوں کے حالات سناتا ہے۔
" أوفى صديق إن خلوت كتابي 
          ألهو به إن خانني أصحابي " 
-میری خلوت میں سب سے وفا دار دوست میری کتاب ہے
اگر میرے ساتھی مجھے چھوڑ بھی گئے تو میں اس سے دل بہلا لوں گا-
☆دنیا میں کتاب کے بارے سب سے اچھا قول : کتاب تنہائی کی بہترین ساتھی ہے 
بھی جاحظ کے عظیم قلم سے نکلا۔ 
جاحظ کی کتابیں علم اور بصیرت کا منبع ہیں ۔
ایک جگہ لکھتا ہے: 
"حسد وہ پہلا گناہ ہے جو آسمانوں پر ہوا ( ابلیس کا آدم علیہ السلام سے حسد ) اور یہی وہ پہلا گناہ ہے جو زمین پر ہوا ( قابیل کا ہابیل سے حسد)".
 ایک اور جگہ رقم طراز ہے :
" میں نے لوگوں میں عیب لگانے اور عیب جوئی کرنے سے بڑا عیب کوئی نہیں پایا".
✍:
جس طرح محبت عیب دیکھنے کے لیے اندھی ہو جاتی ہے؛ بغض، محاسن اور خوبیاں دیکھنے میں بھی اندھا ہو جاتا ہے۔
✍:
ادب ؛ احمق کے لیے تمہ ( اندرائن)  کی جڑ کی طرح ہے جتنی سیراب ہوتی جاتی ہے اتنی کرواہٹ بڑھتی جاتی ہے۔
 255 ہجری میں ایک روز وہ اپنی ذاتی لائبریری میں اپنی کچھ محبوب کتابیں دیکھ رہا تھا کہ اچانک سینکڑوں ضخیم کتابوں اور بھاری مخطوطوں کی ایک قطار اس پر گر پڑی ؛ اس کے بعد؛ پہ درپہ کتابوں کا ڈھیر اس پر آن پڑا۔96 برس کا ضعیف جاحظ اس بوجھ کی تاب نہ لا سکا اور انہیں کتابوں میں دبا فوت ہو گیا۔ کتابوں میں دفن ہونے والے اس عظیم ادیب کو دنیا 
"عميد الأدب العربي" ( عربی ادب کا ستون) کہتی ہے؛ بچپن میں ؛ مدرسہ سے لے کر بزرگی تک وہ علم و ادب کی کتابوں کو محبت سے جمع کرتا رہا اور پھر انہیں کتابوں میں آخری سانس لی۔ اور آج وہ انہیں مخطوطوں ؛ کتابوں اور رسائل کی وجہ سے زندہ ہے اور شاید ہمیشہ رہے گا۔جن کتابوں نے اس کی جان لی وہی اسے 
حیاتِ جاوداں بھی دے گئیں۔ 
"رحمة الله عليه واسعة

حنظلة_الخليق

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے