Ticker

6/recent/ticker-posts

پیارے نبیﷺ کی عید


 عید کی شب خود ہلال عید دیکھتے اور یہ دعا پڑھتے

 "اللهم اهله علينا بالامن والايمان والسلامة والاسلام ربي وربك الله "۔

تکمیل اعتکاف پر بعد نماز مغرب گھر تشریف لے جاتے، ازواج سے ملاقات فرماتے، عشاء کی ادائیگی کے بعد صدقہ فطر ادا فرماتے۔

نماز فجر کے بعد مجلس جلد ہی ختم ہوجاتی، عید کا غسل تہجد کے وقت ہی فرمالیا کرتے، نئے کپڑے زیب تن فرماتے، اور یہ دعا پڑھتے 

"الحمدلله الذي كساني هذا ورزقنيه من غير حول مني ولا قوة" 

،طاق عدد كھجوریں نماز عید الفطر سے قبل ہی تناول فرمالیتے، 

طلوع آفتاب کے بعد صحابہ کرامؓ کے جلو میں تکبیر کہتے ہوئے پیدل عیدگاہ تشریف لے جاتے، نئے کپڑوں میں ملبوس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے مصلے پر تشریف لے جاتے، نہ اذان ہوتی ہے، نہ اقامت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں قبل از قرآت 3 زائد تکبیرات اور دوسری رکعت میں بعد از قرآت 3 زائد تکبیرات کے ساتھ امامت فرماتے، تلاوت جھری، دلسوزی سے لبریز ہوتی، نماز کے بعد آپ دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے، مسجد نبوی کے صحن میں حبشی کھیل تماشا دکھا رہے ہوتے ہیں، حضرت عائشہ فرمائش کرتی ہیں تو آپ اپنی پشت سے انہیں کھیل دکھاتے ہیں، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حبشیوں کو بھگانے کے لئے کنکریاں اٹھاتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں، عمر چھوڑ دو، آج عید ہے۔ 

عید کی رات جو لیلة الجائزة ہوتی اسمیں کثرت عبادت کے سبب کچھ تکان ہو جاتا اس لئے نماز عید الفطر کے بعد کچھ دیر آرام فرماتے۔

ایک مرتبہ حضرت عائشہ کی سہیلیاں آ پہنچیں اور اشعار گانے لگیں، حضرت صدیق اکبر بھی تشریف لاتے ہیں اور آپکے آرام میں خلل واقع ہوتا دیکھ کر انکو ڈانٹ دیتے ہیں، تو آپ فرماتے ہیں، ابوبکر انہیں گانے دو، آج عید ہے.😊


میری طرف سے آپ سبکو عید مبارک

تقبل اللہ منا ومنکم الصیام والقیام وعفا عنا السيئات والآثام. 

عبدالعلی حسنی

ایک تبصرہ شائع کریں

2 تبصرے