Ticker

6/recent/ticker-posts

مکرم نامہ: حضرت رائپوری کےآخری خلیفہ حضرت مولانا مکرم صاحب سنساری پوری اس دار فانی کو سے دار بقاء کی طرف کوچ کرگئے


 یہ سن کر دل کو  سخت دھچکا لگا کہ سراج السالکین حضرت مولانا شاہ سید مکرم حسین سنسارپوری بھی  راہیٔ ملک عدم ہوگئے _وہ موجودہ دور کے ممتاز بزرگ اور مغرپی یوپی کے سب سے بافیض اور عالی نسبت شیخ،  قطب الإرشاد حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کے جلیل القدر خلیفہ تھے  اور سہارنپور کے ایک چھوٹے سے قصبے سنسارپور میں رہ کر تربیت و ارشاد کا فریضہ انجام دے رہے تھے _ان سے بلامبالغہ ہزاروں لوگوں نے کسب فیض کیا _ان کی ذات سراپا خیر و برکت تھی _حکمت و طبابت کے پیشہ سے وابستہ ہونے کی وجہ سے جسمانی بیماریوں کے علاج کا بھی سلسلہ جاری تھا اور دور دراز سے لوگ ان کے پاس علاج کے لیے آتے اور جسمانی و روحانی فیوض و ثمرات حاصل کرتے _


آپ  کی ولادت 1933ء میں ہوئی _والد ماجد مولانا سید إسحق سنسارپور کے ماہر حکیم اور مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ کے باکمال خلیفہ تھے _حضرت سنسارپوری نے مظاہر علوم سہارنپور سے فراغت حاصل کی پھر فن طبابت کی طرف متوجہ ہوئے اس سلسلہ میں اپنے والد ماجد سے کسب فیض کیا اور  ان کی وفات کے بعد ان کے جانشین کی حیثیت سے دینی، علمی، روحانی خدمات انجام دینی شروع کیں _آپ کو عنفوان شباب ہی میں مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ سے بیعت و ارشاد کا تعلق قائم کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا آپ نے ان سے خوب استفادہ کیا مرشد کو بھی آپ کی طبعی شرافت اور فطری نجابت کی وجہ سے  بڑی انسیت تھی انھوں نے آپ کے اندر آثار ارشاد دیکھ کر آپ کو اجازت و خلافت عطا فرمائی اور مخلوق کو اللہ کا نام سکھانے کا حکم دیا _آپ نے مرشد کے حکم سے سلسلۂ بیعت شروع کیا جو قلیل عرصہ میں حدود و ثغور سے ماورا ہوگیا _آپ کے مریدین و مسترشدین کی تعداد بلامبالغہ لاکھوں سے زیادہ ہے _آپ کے خلفاء مجازین میں مولانا یحی نعمانی ندوی مدظلہ ،مولانا مفتی مسعود عزیزی ندوی مدظلہ اور مولانا ڈاکٹر عبدالرحمن کوثر مدنی مدظلہ وغیرہ شامل ہیں 


الحمد للہ اس ناکارہ کو حضرت والا کے ہاں کئی دفعہ حاضر ہونے اور طویل مدت تک قیام کرنے کا شرف حاصل ہوا _جب بھی ان کی خدمت میں حاضری ہوئی ان کی ایمان افروز مجالس، پرسوز نصائح اور روشن کردار سے زندگی جینے کا سبق ملا _اگرچہ استفادہ و حصول خیر کی نیت سے  ان کی صحبت میں  کئی دفعہ حاضر ہوا  مگر افسوس اپنی نااہلی اور عدم استعداد کی بناء پر کچھ حاصل نہ کرسکا اور محروم کا محروم ہی رہا _ہائے وہ ساقی نہ رہا جو اپنی آنکھوں سے شراب طھور کی مے پلاکر مدہوش کیا کرتا تھا، جس کے پاکیزہ کردار کی خوشبو سے ہم گناہ گاروں کے گناہوں کی بدبو دور ہوتی تھی __


اللہ پاک حضرت سنسارپوری کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی و ایمانی خدمات کو قبول فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے _


عبدالمالک بلندشہری

٢٢ جولائی ٢٠٢٢ء

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے