دنیاآج جس روش پرجارہی ہےیہ چال وہ چال نہیں جو انسانیت کو حادثات سے بچاکرمنزل تک محفوظ طریقےسے پہنچاسکتی ہوبلکہ یہ انداز اور چال ڈھال اب انسانیت کےلیےصرف نہ یہ کہ مہلک ہےبلکہ زہرٍقاتل کا درجہ بھی رکھتی ہے
اس لیے انسانیت کاادنیٰ سادرد رکھنےوالاانسان موجودہ روش اورچال ڈھال کوبہت دورسےبھانپ لیتاہےکہ یہ طریقٍ کار انسانیت کوگھٹاٹوپ اندھیریوں کی طرف لےجارہاہے
انسانیت کےلیےیہود ونصاریٰ تو ہمیشہ سےہی خوں خواررہےہیں وہ باہرسےتوانسانیت کےدرد کاخول پہنےرہتےہیں مگراندرسےکالےکےکالےاور تاریخی ظالم ہیں میری بات سے اگرکسی کو اتفاق نہ ہو توبراہ کرم بہت دور نہ جاکرصرف آج کےحالات پرغورکریں تو آپکو معلوم ہوگاکہ حقیقت اگرہےتووہ صرف یہی ہےکہ یہودونصاریٰ صرف ظالم نہیں ظلام بھی ہیں.
جس کی مثالیں آپ کو ہرجگہ کھلی آنکھوں نظر آئیں گی ہمارےپیارےملک بھارت میں کون نہیں جانتاکہ انگریز نےایک تجارتی قافلےکی شکل میں آکرکیاکیاگل کھلائےاور کس کس طرح ملک کو لوٹامگراس سر زمیں کے جیالوں نےہرقیمت پرملک کی آزادی کواپنانصب العین بنایااور معاملہ یہاں تک پہنچاکہ ملک15اگست1947عیسوی کو انگریزکی غلامی کی زنجیروں سےآزاد ہوگیامگر باوجودیکہ مسلمانوں نے انگریزکےدورمیں اس ملک کی خاطرسب سے زیادہ قربانیاں دیں اورگیارہ ملیں صرف مسلمان اس ملک کی آن بان اور شان کےلیےقربان ہوگئےاورگوروں کےاس ملک سےواپس جانےکےبعدمسلمانوں کی ایک بڑی تعدادملک میں بچنےکےبعدبھی مسلمانوں نےمحکومی کوترجیح دیکرملک شریکٍ وطن بھائیوں کےحوالےکیااور خوداپنےمدارس،مکاتب،مساجداورخانقاہوں میں جابیٹھے اب تمہارےحوالےوطن ساتھیو!
اب وہ صرف اپنےدین ومذہب کی تعلیم اوراپنےمعاشرےکی تنزیہ وپاکیزگی کی فکرمیں مستغرق ہوگئےیہاں تک کہ تبلیغی جماعت نے اپنےاصول میں یہ بات بطور بنیاد لکھ دی کہ امام کی امامت،مؤذن کی اذان اورملک کےنظام کےساتھ کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کرنی
البتہ اکادکاعلماءمحض اپنےوطنی بھائیوں کاساتھ دینےکےلیےاپناحق سمجھکرکوئی پنچائت کوئی اسمبلی اورکوئی پالیمنٹ میں اصولی طور الیکشن لڑ کرملکی قانون کی حلف برداری کرکےپہنچنےمیں کامیاب ہوتاہےمگریہاں کا مسلمان چاہےوہ کتناہی بڑاکیوں نہ بن جائےوہ اپنےملک کےقانون کاپاسدارملک کا وفادار اوریہاں کےبھائی چارےکاسفارتکارہوتاہے
اپنےوقت میں مجاہدٍ آزادیٍ ہندمولاناسیدحسین احمدمدنی ہوں ماضی قریب میں انکےفرزندارجمند فدائےملت و سابق امیرالہند مولاناسیداسعدمدنی ہوں یاموجودہ دورکے قائدٍملت اسلامیہ موجودہ امیرالہندمولاناسیدارشدمدنی یاقائدجمعیت مولانامحمودمدنی ہوں اور پھرپورےملک کی ہرریاست میں دارالعلوم دیوبند یادیگراداروں اوردیگرمکاتبٍ فکرکےعلماءودانشوران ہوں آپکو ہرپل اور ہرآن ملک کی وفاداری کا سبق سناتےنظرآئینگےاور جب بھی کسی اسٹیج کسی جلسے یانجی مجلیس ہوں ملک کےگن گاتےنظرآئینگے
اسلیےنہیں کہ انہیں کسی شخص،کسی حکومت یاملک کوبدنام کرنانہیں آتابلکہ صرف اس لیےکہ یہاں کی شخصیات،یہاں کی حکومت اوریہ ملک جتنایہاں کےدیگرمذاہب والوں کاہےاتناہی ہمارا بھی ہےاوراپنی شناخت کو بدنام ہوتےدیکھنامسلمان کےبس میں ہی نہیں اس لیےکہ ہمارےنبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائےاس سےپہلےمدینےکانام یثرب تھاجس کےمعنیٰ ہلاکت وبیماری ہےپیارےحبیب صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات بھی برداشت نہ کرسکےکہ میرےوطن کا نام ایساہوکہ جس کےمعنیٰ غلط نکلتےہوں اس لیےآتےہی تبدیل کرکےمدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم رکھاجب اسلام کا معمارٍاول ہی اپنےوطن سے اسقدرمحبت کرتاہوتوآپکےمتبعین(مسلمانوں) میں کیسےیہ ہمت ہوسکتی ہےکہ وہ اپنےملک یاملک واسیوں کو بدنام کریں
رہی امن کی صورت حال تو پیارےنبی نے مدینےمیں اس قدر امن وامان کی فضاقائم کی تھی کہ آنےوالاہرآدمی مدینےمیں آکراپنےآپکو مامون ومحفوظ اور آزادسمجھاکرتاتھاکوئی عورت کتنی ہی حسین وجمیل کیوں نہ ہومدینےمیں آجاتی تو اسےنظراٹھاکردیکھنےوالاکوئی نفس انسانی نظرنہ آتاتھا
کوئی سفاک دشمن بھی اگرہاتھ لگ جاتاتو اسکےساتھ پیارومحبت کا ایساسلوک کیاجاتاجسےدیکھ کروہ حلقہ بگرشٍ اسلام ہونےسے اپنےاپنےآپ کوروک نہ پاتاتھاجس کا اندازہ اس واقعےسےبخوبی لگایاجاسکتاہےجسےسیرت وتاریخ کی تقریباًسب کتابوں میں نقل کیاگیاہےچنانچہ ملاحظہ ہو
ثُمامہ ابن اُثال ایک شخص تھاجومدینےآس پاس صرف اس لیےچکرلگاتاتھاکہ کہ وہ پیارےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردےایک دن اسلامی گشتی پارٹی کے ہاتھوں گرفتارہوگیابنامارپیٹ پیارےنبی کی خدمت میں پیش کیاآپنے اسےمسجدنبوی کےایک ستون کےساتھ بندھوادیاحضورصلی اللہ علیہ وسلم کاجب گذرہواتو آپنےثمامہ سےپوچھا ثمامہ آخرمیرےرب نےمجھےآپ پرقابودےہی دیاتو اب کیاخیال ہےتو وہ جواباًبڑی بدتمیزی کےساتھ گویاں ہوئےاور اپنی گفتگومیں تین باتیں کہیں„محمدتمہیں معلوم ہےکہ میں کوئی معمولی شخص نہیں ہوں چنانچہ اگرمجھےقتل کروگےتویادرکھنا کہ تم سےمیرا بدلہ لیاجائے گا،اوراگراحسان کروگےتو میں احسان کابہتربدلہ دینےکی صلاحیت رکھتاہوں اور اگرمال چاہیےتو جتناچاہومانگ لواداکیاجائےگایہ تـُمتڑاق والی گفتگوسلطان دوجہاں کےساتھ کی گئی تھی جسےانتہائی بردباری کےساتھ آپ نےسنااورکچھ کہےبغیرواپس چلدئےدوسرےدن پھرگفتگوہوئی وہی اندازکوئی بدلاؤ نہیں تھاتیسرےدن بھی اسی طرح دونوں جانب سےبےباک سوال وجواب ہوئےآخر تیسرے دن ہمارےنبی نےبغیرکسی معاہدےکےثمامہ کو آزاد کردیاجس اثر یہ ہواکہ وہ ٹہلتابہلتامدنےکےآخری حصےتک گیااورپھرواپس آنحضورکی خدمت میں آپہنچاآپ نےپوچھاثمامہ.ہم نےتو تمہیں آزاد کردیاتھاپھرآپ کیوں واپس آگئےتو ثمامہ نےجواب دیاکہ آزاد تو آپ نےکردیامگراپنا غلام بناکراب میں وہ ثمامہ نہیں جو پہلے ہواکرتاتھااب میں اس نیت سےآیاہوں کہ آپ.مجھے کلمہ پڑھاکر مسلمان بنادیں معلوم ہواکہ اسلام بناکسی بھی زور وزبردستی کےمحض اخلاق واطوار اورامن وامان سےپھیلاہےیہ تو پیارےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی کا واقعہ ہےاس ہمارے گئےگذرےدورمیں بھی جبکہ ملک کےطول وعرض میں پابندیاں،اسلامو فوفیاکاطوفان ہے،لوجہادکی دُہائیاں دی جاچکی ہیں ان حالات میں کسی کامسلمان کی جانب رحم کی نگاہوں سے دیکھنےکابھی تصورنہیں کیاجاسکتاان حالات میں سبری مالاجیسی موٹیویشنل اسپیکر،پڑھی لکھی خاتون کااچانک اسلام کو پڑھکرسیکھ کراسلام قبول کرلیناکیاکسی معجزےسے کم ہےمگریہ باتیں سمجھنےسےتعلق رکھتی ہیں کاش کہ کوئی سمجھے.........کل دس قسطوں میں شائع ہونےوالےمضمون کی پہلی قسط
از مولانامحمدعلی قاسمی جمعیت علماوآئمہ جموں وکشمیر۸۸۰۳۴۰۰۰۲۰

0 تبصرے